لگوانا شروع کیا تھا۔ چند دوستوں کے چندہ کے لئے تکلیف بھی دی گئی۔ مگر وہ چندہ ناکافی رہا۔ا ب کنوئیں کا کام شروع ہے۔ مگر روپیہ کی صورت ندارد چاہتا ہوں۔ اگر آپ دوماہ کا چندہ چالیس … روپیہ بھیج دیں۔ توشاید اس سے کچھ مدد مل سکے۔ ابھی کام بہت ہے۔ بلکہ عمارت بھی شروع نہیں ہوئی۔ بوجہ ضعف کے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۶ء
(۲۵۴) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کی خدمات متواترہ سے مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر بخشے۔ اس وقت بباعث قحط اور کثرت مہمانوں کے ضرورتیں ہیں۔ اخراجات کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔ اب آٹے کی قیمت کے لئے ضرورت ہے۔ اس لئے مکلف ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو پھر آپ مبلغ چالیس …بطور پیشگی بھیج دیں کہ بہت ضرورت در پیش ہے اور مجھ کو اطلاع دیں کہ یہ روپیہ کس معیاد تک آپ کے وعدہ چندہ کا متکفل رہے گا تااس وقت تک آیند تکلیف دینے سے خاموشی رہے۔ یہ امر ضرور تحریر فرمادیں کہ یہ روپیہ فلاں انگریزی مہینہ تک بطور پیشگی پہنچ گیا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔ امید کہ دسمبر کی تعطیلات میں آپ تشریف لاویں گے۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
۴؍ نومبر ۱۸۹۶ء
یہ خط آپ کی خدمت میں ضرورت کے وقت لکھا گیا ہے۔ ورنہ نے وقت آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ تھا اور نیز اس حالت میں کہ اس وقت آپ کو گنجائش نہیں۔
والسلام