یا یسوع کی نسبت استعمال کئے جائیں تو کیا آپ برداشت کر سکتے ہیں؟ ہمارے دلوں کو آپ لوگوں نے ایسا دکھایا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ مردہ پرستی کی شامت ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں سے راستبازی کا نور بالکل جاتا رہا۔ ہر ایک سوال شرارت کے ساتھ ملا کر بیان کیا جاتا ہے ہر ایک اعتراض میں افتراء کی ملونی سے رنگ دیا جاتا ہے۔ ہر ایک بات ٹھٹھے اور ہنسی سے مخلوط ہوتی ہے کیا یہ نیک انسانوں کا کام ہے۔ پھر جس حالت میں آپ اُس عالی جناب کی عزت نہیں کرتے جس کو زمین و آسمان کے خالق نے عزت دے رکھی ہے اور جس کے آستانہ پر پچانوے کروڑ آدمی سر جھکاتے ہیں (نئی تحقیقات سے مسلمانوں کی تعداد ۹۵ کروڑ تمام روئے زمین پر ثابت ہوئی ہے) پھر آپ ہم سے کس عزت کو چاہتے ہیں۔ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ تہذیب سے پیش آویں تا ہم بھی تہدیب سے پیش آویں مگر آپ لوگ ایسا کرنا نہیں چاہتے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جن اعتراضات کو آپ تہذیب اور نرمی سے پیش کر سکتے ہیں ان کو آپ توہین اور تحقیر سے پیش کرتے ہیں مثلاً زینب کے قصہ میں جو متبنٰی کی بیوی کو نکاح میں لانا آپ لوگوں کی نظر میں محل اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دل دکھانے کیلئے توہین اور تحقیر کے پیرایہ میں پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں طلب حق اور زبان پر تہذیب ہو تو اس طور سے اعتراض پیش کریں کہ ہماری توریت اور انجیل کی رو سے متبنٰی کی بیوی سے نکاح کرنا حرام ہے اور توریت انجیل کے رو سے جس مرد کو بیٹا کہا جاوے یا عورت کو بیٹی کہا جائے تو اس مرد کی بیوی حرام ہو جاتی ہے اور اس عورت کو نکاح میں لانا حرام ہو جاتا ہے یا اگر نکاح میں ہوتو اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور نیز فلاں فلاں عقلی دلیل سے ثابت ہے کہ متبنٰی اصل بیٹے کی مانند ہو جاتا ہے مگر اسلام نے متبنٰی کی بیوی سے بعد طلاق نکاح جائز رکھا ہے تو ایسے اعتراض سے کوئی مسلمان ناراض نہ ہو یا مثلاً کثرت ازدواج پر آپ اعتراض کریں اور نرمی سے توریت اور انجیل کی آیات ثبوت میں لکھیں کہ صریح ان کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا