اشتہار نہیں تو نور افشاں میں چھپوا دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے کوئی قلمی تحریر آپ کی طرف نہیں بھیجی بلکہ ہزار روپیہ کا اشتہار چھپوا کر بھیجا ہے۔ تو اس صورت میں طریق مقابلہ یہی ہے کہ جیسا کہ میں نے ایک دعویٰ کو چھاپ کر پبلک کے سامنے رکھ دیا ہے اور ہر ایک کو نظر اور غور کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ آپ بھی ویساہی کریں اور وہ عمدہ کتابیں جو آپ کی دانست میں اعتماد کے لائق ہیں اور اہل الرائے نے ان پر کوئی جرح نہیں کیا اور نہ ان مفتریات میں سے ٹھہرایا ہے۔ ان کا وہ مقام شائع کر دیں آپ کی اس سے بڑی نیک نامی ہوگی کیونکہ جب کہ میں اس وسوسہ کے استیصال کیلئے جواب الجواب چھپوا دوں گا اور پبلک کی نظر میں وہ نکما ثابت ہوگا تو گویا پبلک آپ کو ہزار روپیہ پانے کی ڈگری دے دے گی۔ اس صورت میں ہر ایک کی نظر میں آپ ہزار روپیہ پانے کے مستحق ٹھہر جاویں گے اور مجھ کو دینا پڑے گا اورنیز اس صورت میں یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کی اس معرکہ کی فتح کے بعد کچھ ترقی بھی ضرور ہوگی کیونکہ جب کہ آپ یسوع صاحب کی عزت ثابت کریں گے تو ضرور لوگ آپ کی عزت کریں گے۔ میری نظر میں تو سوائے حوالات میں رہنے اور چوتڑوں پر کوڑے کھانے کے انجیل سے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ اگر اسی کا نام عزت ہے تو بے شک اُس وقت کے مخالف مذہب والیان ملک نے یسوع کی بڑی عزت کی۔ خیر اوّل اس خط کو جو میری طرف بھیجا ہے چھپوا دیں اور جلد چھپوا دیں اور ایک کاپی میرے نام بھیج دیں پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیسی ان اسناد کی وقعت اور یسوع صاحب کی عزت ثابت کرتا ہوں اور آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ نور القرآن میں مجھ کو گالیاں دیں ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ گالیاں دینا اور توہین کرنا اور افتراء کرنا وہ سب اس زمانہ کے پادری صاحبوں کے حصہ میں آ گیا ہے۔ کون سی گالی ہے جو آپ لوگوں نے ہمارے سیّدو مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دی۔ کونسی توہین ہے جو اس جناب کی آپ لوگوں نے نہیں کی۔ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزاروں کتابیں آپ لوگوں کے ہاتھ سے ایسی نکلی ہیں جو گالیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اگر وہی الفاظ آپ صاحبوں کے باپ یا ماں