نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعویٰ کرنے والے گزر چکے ہیں۔ ایک مصر میں ہی موجود تھا۔ دعوؤں کو الگ کر کے کوئی اخلاقی حالت جو فی الحقیقت ثابت ہو ذرا پیش تو کرو تا حقیقت معلوم ہو کسی کی محض باتیں اس کے اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد جو خود خونی اور اپنے کام سے سزا کے لائق ٹھہر چکے تھے بے رحمی سے قتل کئے گئے مگر آپ کو یاد نہ رہا کہ اسرائیلی نبیوں نے تو شیرخوار بچے بھی قتل کئے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں تک نوبت پہنچی یا ان کی نبوت سے منکر ہو یا وہ خدا کا حکم نہیں تھا یا موسیٰ کے وقت خدا اور تھا اور جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کوئی اور خدا تھا۔ اے ظالم پادری! کچھ شرم کر آخر مرنا ہے مسیح بیچارا تمہاری جگہ جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ اپنے کاموں سے تمہیں پکڑے جاؤ گے اس سے کوئی پُرسش نہ ہوگی۔ اے نادان! تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں تجھے نظر نہیں آتا۔تیری آنکھیں کیا ہوئیں جو تو اپنی آنکھوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ زینب کے ننکاح کا قصہ جوآپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کردیا۔ بجز اس کے کیا کہیں۔ بد گھر از خطا خطا نکند اے نالائق! متبنٰی کی مطلقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔ صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن سکتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی عیسائی اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی بلکہ وہ بدستور اسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے واقع ہو سکتی۔ اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے