ساتھ قتل کیا جانا اور ایک دوسرا انسان ہے جسے قطع نظر اپنے اصلی دعوؤں کے خلو کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رھا ہے۔ سچ مچ گرفتار ہو جاناچالان کیا جانا اور عجیب ہئیت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جانا۔ افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بیہودہ عقائد۔ شرم! شرم! شرم!!!
اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میںجناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنیٰ خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔ اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعدہ کتاب اللہ صحیح بخاری کی عبارت رکھتا ہوں۔ ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے:۔
وقد کنت اعلمانہ خارج ولم اکن اظن انہ منکم فلوا انی اعلم انی اخلص الیہ لتجشمت لقایۃ ولو کنت عندہ لغسلت عن قدمہٖ (صفحہ۴)
یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کر یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہے (اے اہل عرب) پیدا ہوگا۔ پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا۔ اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو مسیح کیلئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل ہی سے بلکہ پیش کرو ۔ اگرچہ کوئی نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کر دو اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش کر دو۔اور یاد رکھو کہ ہرگز ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہ آپ ہی بات کو اُٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہوگئے۔ شاباش! شاباش! شاباش!!!
مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد،