ایک سفلہ اور کمینہ پادری کی طرح خیال کرتے ہیں جن کو خدا ملک اور دولت دیتا ہے اُن کوزیر کی اور عقل بھی دیتا ہے۔ ہاں اگر یہ سوال پیش ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اُس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی تا اس کے دماغ کی اصلاح ہو اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت لوگ جمع ہیں۔
جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر اُن کے ربانی رعب یا الٰہی تائید نے اثر دکھایا یا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے جب بادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجے میں مبتلا ہوں۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل بادشاہ کسریٰ ایران کے فرمانروا نے غصہ میں آ کر آپ کے پکڑنے کیلئے سپاہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کاحکم ہے۔ آپ نے اس بیہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کرو۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربّانی رعب سے