خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجناب کے وقت میں عیسائی بادشاہ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہوسکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا۔ سوجو قیصر روم نے کہا یقینا یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی۔ اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیر دار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے تو ہم آپ کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام دیں گے۔ اگر آپ ثابت کر سکیں اور اگر اس کا ثبوت نہ دے سکیں تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قیصر روم اس گورنمنٹ عالیہ کا ہمرتبہ تھا بلکہ تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی۔ ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی پھر جب کہ قیصر باوجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجناب مقدس کے پاؤں دھویا کرتا تو کیا یہ گورنمنٹ اُس سے کم حصہ لیتی؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ضرور یہ گورنمنٹ اس آسمانی بادشاہ سے منکر نہیں جس کی طاقتوں کے آگے انسان ایک مرے ہوئے کیڑے کی برابر نہیں اور ہم نے ایک معتبر ذریعے سے سنا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند ادام اللہ اقبالہا درحقیقت اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم ہے۔ چنانچہ ایک ذی علم مسلمان سے وہ اُردو بھی پڑھتی ہے۔ اُن کی ایسی تعریفوں کو سن کر میں نے اسلام کی طرف ایک خاص دعوت سے حضرت ملکہ معظمہ کو مخاطب کیا تھا۔ پس یہ نہایت غلطی ہے کہ آپ لوگ اس مراتب شناس گورنمنٹ کو بھی