کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے لیکن اگر اس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا اور یا پنے لاف و گزاف کے مطابق دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اُٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہوگا مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندہ کے پھاڑنے سے ہو اور ہم اس جواب کیلئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔ آمین یاد رہے کہ صادق اور کاذب میں فیصلہ کرنے کیلئے ایسے امور ہرگز … نہیں ٹھہر سکتے جو دنیا کی قوموں میں مشترک ہیں کیونکہ کم و بیش ہر ایک قوم میں وہ پائے جاتے ہیں انہیںامور میں سے طریق سلب امراض بھی ہے یہ طریق نامعلوم وقت سے ہر ایک قوم میں رائج ہے ہندو بھی ایسے کرتب کیا کرتے ہیں اور یہودیوں میں بھی یہ طریق چلے آتے ہیں اور مسلمانوں میں بھی بہت سے لوگ سلب امراض کے مدعی ہیں اور بیج بات یہ ہے کہ اس طریق کو حق اور باطل کے فیصلہ کرنے کیلئے کوئی دخل نہیں کیونکہ اہل حق اور اہل باطل دونوں اس میں دخل پیدا کر سکتے ہیں چنانچہ انجیلوں سے بھی ثابت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ اس طریق توجہ سے بعض امراض کو اچھا کرتے تھے تو ان کی زندگی میں ہی ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ ان کے مرید اور حواری نہ تھے مگر اسی طرح امراض کو اچھا کر لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کر لیتے تھے اور اس وقت ایک تالاب بھی ایسا تھا جس میں غوطہ لگا کر اکثر امراض اچھی ہو جاتی تھیں تو یہ مشق توجہ اور سلب امراض کی جو عام طور پر قوموں کے اندر پائی جاتی ہے یہ سچے مذہب کیلئے کامل شہادت نہیں ٹھہر سکتی ہاں اس صورت میں کامل شہادت ٹھہر سکتی ہے کہ وہ فریق جو اپنے اپنے مذہب کی سچائی کے مدعی ہیں وہ چند بیمار مثلاً بیس بیمار قرعہ اندازی سے باہم تقسیم کر لیں اور پھر ان دونوں میں سے جس کے بیمار فریق مقابل سے بہت زیادہ اچھے ہو جائیں اس کو حق پر سمجھا جائے گا چنانچہ گزشتہ دنوں میں ایسا ہی میں نے اس ملک میں اشتہار دیا تھا مگر کسی نے اس کا مقابلہ نہ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ڈوئی یا اور کوئی ڈوئی کا ہم جنس اس مقابلہ کیلئے میرے مقابل آئے تو میرا خدا اس کو سخت ذلیل