رہے مسلمان سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑہا مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کاخدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سناویں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی جانتا ہوں اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعا کروں گا کہ انشاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کیلئے حق کی شناخت کیلئے ایک راہ نکل آئے گی میں نے ایسی دعا کے لئے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے اس کی سبقت دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا اور یاد رہے کہ میں اس مُلک میں معمولی انسان نہیں ہوں میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظار کر رہا ہے صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیداہو گیا اور وہ میں ہی ہوں صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہر ہوچکے ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے ڈوئی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں ہے نے ہزار ہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا جو بچہ ہی … کر مر گئی اور ڈاکٹر اس کی بیماری پر بلایا گیا مگر وہ گزر گئی یا درہے کہ اس مُلک کے صدہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں اور سلب امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا گر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا کیا حاجت ہے کہ تمام مُلکوں