حادثہ وارد ہوگا اور وہ پیشگوئی اس میعاد میں پوری ہو جائے تو بغیر اس کے کہ اس کی نظیر اپنی طرف سے پیش کریں بہرحال قبول کرنے پڑے گی اور اگر ہم نشان دیکھنے کے بعد دین اسلام اختیار نہ کریں اور نہ اس کے مقابل پر اسی برس کے اندر اس کی مانند کوئی خارق عادت نشان دکھلا سکیں تو عہد شکنی کے تاوان میں نصف جائداد اپنی امداد اسلام کیلئے اس کے حوالہ کریں گے اور اگر ہم اس دوسری شق پر بھی عمل نہ کریں اور عہد کو توڑ دیں اور اس عہد شکنی کے بعد کوئی قہری نشان ہماری نسبت مرزا غلام احمد شائع کرنا چاہئے تو ہماری طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اس کو شائع کرے فقط یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام مذہب و ولدیت و سکونت ہو اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اُس پرثبت ہو تب متن اخباروں میں اس کو آپ شائع کرا دیں جب کہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اِس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں اب بہرحال وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تعالیٰ سچے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر دیوے سو اگر آپ دل کے قوی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریںگے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بقیہ حاشیہ ) کیا جائے گا۔ (۱۷)تقریروں پر صاحباں صدر اور تقرر کنندگان اپنے اپنے دستخط اُن کی صحت کی ثبوت میں ثبت کریں گے۔ دستخط ہنری کلارک ایم۔ ڈی وغیرہ امرتسر۔۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خاں صاحب امرتسری اور مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب امرتسری اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ عیسائیوں کیلئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ فریق مسلمان کیلئے داخل کرہ … کو نمبر (دستخط مرزا صاحب داخل کرو… کو نمبر (دستخط ڈاکٹر کلارک صاحب) (امرتسر ۲۴… ۱۸۹۳ء) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔