سکتا جب تک اس کو انصاف کا خیال نہ ہو لیکن اس جگہ یہ آپ کا فقرہ کہ جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی ہم آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اُس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے تشریح طلب ہے یہ عاجز تو محض اس غرض کیلئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دارالنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے وبس اب کیا آپ اس بات پر تیار اور مستعد ہیں کہ نشان دیکھنے کے بعد اس مذہب کو قبول کر لیں گے آپ کا فقرہ مذکورہ بلا مجھے امید دلاتا ہے کہ آپ اس سے انکار کریں گے پس اگر آپ مستعد ہیں تو چند سطریںتین اخباروں یعنی نور افشان اور منشور محمدی اور کسی آریہ کے اخبار میں چھپوا دیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو حاضر و ناصر جان کر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس مباحثہ کے بعد جس کی تاریخ ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء قرار پائی ہے مرزا غلام احمد کی خدا تعالیٰ مدد کرے اور کوئی ایسا نشان اس کی تائید میں خدا تعالیٰ ظاہر فرماوے کہ جو اس نے قبل ازوقت بتلا دیا ہو اور جیسا کہ اُس نے بتلایا ہو وہ پورا بھی ہو جاوے تو ہم اس نشان کے دیکھنے کے بعدبلاتوقف مسلمان ہو جائیں گے اور ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس نشان کو بغیر کسی قسم کے بیہودہ نکتہ چینی کے قبول کر لیں گے اور کسی حالت میں وہ نشان نامعتبر اور قابل اعتراض نہیں سمجھا جائے گا بغیر اس صورت کے کہ ایسا ہی نشان اسی برس کے اندر ہم بھی دکھلا دیں مثلاًاگر نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ہو کہ فلاں وقت کسی خاص فرد پیر یا ایک گروہ پر فلاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بقیہ حاشیہ ) (س) اس بات کا ثبوت کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) رسول اللہ ہیں وہ اور سوال بھی کر سکتے ہیں بشرطیکہ ۶ دن سے زیادہ نہ ہو جائے۔ (۱۵) ٹکٹ ۱۰ مئی تک جاری ہو جانے چاہئیں وہ ٹکٹ مفصلہ ذیل نمونہ ہوں گے۔ (۱۶) عیسائیوں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے یہ قواعد واجب الاطاعت اور یہ صحیح تحریر فرمائی گئی۔ بطور شہادت میں (جن کے دستخط نیچے درج ہیں) مسٹر عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے دستخط کرتا ہوں اور مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی شرط کا توڑنا فریق توڑنے والے کی طرف سے ایک اقرار گریز خیال