ہر یک منکر کاملوں کی حالت کا گواہ ہوجائے کیونکہ جب کہ وہ اپنے چھوٹے سے دائرہ استعداد میں کچھ نمونہ ان باتوں کا دیکھتا ہے جو ان کاملوں کی زبان سے سنتا ہے پس اس تھوڑی سی جھلک کی وجہ سے اسکے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے سچے دل سے ان الہامی اموؔ ر کو بکلّی غیر ممکن سمجھے۔ سو وہ اس روحانی خاصیت کا ایک ذرا سا نمونہ اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے خدائے تعالےٰ کے الزام کے نیچے ہے جس کے رو سے بحالت انکار وہ پکڑا جائے گا۔ جیسا کہ آجکل کے آریہ خیال کررہے ہیں کہ خدا ئے تعالےٰ نے چاروں وید وں کو نازل کرکے پھر یکلخت ہمیشہ کے لئے الہامات کی صف کو لپیٹ دیا ہے۔مگر خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت انہیں ملزم کرتا ہے جبکہ وہ بچشم خود دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ انکشافات غیبیہ کا اب تک جاری ہے اور انمیں سے فاسق آدمی بھی کبھی کبھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ وہ خدا جس نے اپنا روحانی فیض نازل کرنے سے اس زمانہ کے فاسقوں اور دُنیا پرستوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور ان پر بھی باوجود فقدان کامل مناسبت کے کبھی کبھی رشحاتِ فیض نازل کرتا ہے تواپنے نیک بندوں پر جو اسکی کامل مرضی پر چلیں اور اکمل اور اتم طور پر اس سے مناسبت رکھیں کیا کچھ نازل کرتا نہیں ہوگا اور ایک بھید اس تخمی مشارکت میں یہ ہے کہ تا ہر یک شخص گو وہ کیسا ہی فاسق بدکار یا کافر خونخوار ہو اس مشارکت پر غور کرنے سے سمجھ لیوے کہ خدائے تعالیٰ نے