سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور انکی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا۔کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بیّن ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خوابیں اور وہ مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگزبرابر نہیں ہیں۔ جو لوگ خدائے تعالٰے کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔ دُنیا اُن نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا دریوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنیٰ مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھؔ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کرکے دیکھو تو یہ ذرّہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیںآفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ سو جاننا چاہیئے کہ درحقیقت تمام فضیلتیں باعتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہوپیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقاً ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلّہ کہلائے گا۔ ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔ اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اوراپنی بیوی پر حاکم ہے۔ رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بد بختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو نعمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے