تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنی اصلی مقدار میں نظر آجائیں گے۔ پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔ لیکن ان دونوں وحیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے۔ یعنی اگرچہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں اور یہ جو اس جگہ میں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ ؔ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے بھی متعلق ہے۔ یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے تم دیکھتے ہو کہ سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔ بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفّٰی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہیئے دیکھنے والے کی شکل ان میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکدّراور ُ پر غبار اور دود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر ان میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً ان میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آگیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے جو نہایت درجہ کا مصفّٰی دل ہے اس میں مصفّا طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکدّر ہے اس میں اسی قدر مکدّر دکھائی دیتاہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے ایسی صفائی کسی دوسرے دل کو ہرگز حاصل نہیں۔ اسؔ جگہ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو علّت العلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور