آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالےٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ ازسر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو کھینچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچا دیتی ہے خدائے تعالےٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچؔ لیتا ہے پھر عین اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقترانِ محبتیں روح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے معاََ اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرئیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے مثلاً جب تم نہایت مصفّٰی آئینہ اپنے مُنہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا توقف اس میں پڑے گا۔ یہ نہیں کہ تمہارا مُنہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہوکر آئینہ میں رکھ دیا جائیگا۔ بلکہ اس جگہ رہے گا جو رہنا چاہئے صرف اُس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہریک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑیگا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلبؔ کی ہوگی اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر یک عضو اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئیگا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے