ان آیاتِ بیّنات سے صا ف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ ؔ سے انسان کو کوئی عزّت نہیں بخشتے بلکہ خود ان کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو درحقیقت وہ تمام خادم ہیں نہ مخدوم اور اس بارہ میں حضرت سعدی شیرازی رحمۃاللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔
ابر و باد و َ مہ و خورشید و فلک در کاراند
تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری
ایں ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمانبردار
شرط انصاف نباشد کہ تو فرمان نہ بری
اور پھر ہم بقیہ تقریر کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی قسم کاکام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر