لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد رہے گا ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الٰہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔ کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہٗ ایک مثال کے طور پر ثمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہو ں نے بباعث اپنی جبلّی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس کی تکذیب کے لئے ایک بڑا بدبخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔ اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقۃ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی ؔ اونٹنی اور اُس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اونٹنی کے پاؤ ں کاٹے۔ سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مار ڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہو گا۔ یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقۃ اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی درحقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تاوہ ناقۃ اللہ کا کام دیوے۔ اس کے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک تجلّی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتاہے۔سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدیداور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقۃ اللّٰہکا سقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یاد الٰہی اور معارف الٰہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقو ف ہے اُس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہوتا ؔ وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے سو اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو