اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئےؔ اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں اب جبکہ ظاہری سلسلہ کائنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلفہ سے تربیت پارہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باذنہ ٖ تعالیٰ وہ نفوس نورانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔
اب اِس کے بعد یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگرچہ بظاہر یہ بات نہایت دورازادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالٰے اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آجائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدائے تعالیٰ کے اس عام قانون قدرت کے مطابق ہے جو دنیا کی ہریک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود و محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اورؔ ظاہری قویٰ کے لحاظ سے انہیں وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتی اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سُن نہیں سکتے لہٰذایہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہو گا۔ بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیوں کہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اُسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار اُن کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہریک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے