اپنے طریق معاشرت میں داخل کر لیں۔
اب پھر میں ملائک کے ذکر کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھیؔ اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔ قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کائنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتاہے کہ بعض وہ نفوس طیّبہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں ۔بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیّبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیئے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتاہے بلکہ ان نفوس طیّبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نو رانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکُنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگرؔ اُن نفوس طیّبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے توپھر اُن کے تمام قویٰ میں فرق پڑجائے گا انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکُلّی فساد راہ پاجانالازمی و ضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں غرض یہ نہایت جچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات