ان شرائط کی خلاف ورزی کرے جو اشتہار ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ ء میں مندرج ہیں اور اپنی بے باکانہ حرکات سے باز نہ آوے تو وہ اس سلسلہ سے خار ج شمار کیاجاویگا۔ یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقویٰ شعارلوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے * اور اُن کا اتفاق اسلام کے لئے برکت وعظمت و نتائج خیر کا موجب ہو اور وہ ببرکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونےؔ کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آسکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اورنہ اُن نالائق لوگوں کی طرح جنھوں نے اپنے تفرقہ و نا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اورنہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہوجائیں۔ یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح
اسؔ جماعت کے نیک اثر سے جیسے عامہ خلائق منتفع ہوں گی۔ ایسا ہی اس پاک باطن جماعت کے وجود سے گورنمنٹ برطانیہ کے لئے انواع اقسام کے فوائد متصوّر ہوں گے جن سے اس گورنمنٹ کو خداوند عزّ وجل کا شکر گذار ہونا چاہیئے۔ از انجملہ ایک یہ کہ یہ لوگ سچے جوش او ر دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیر خواہ اوردعا گوہوں گے کیونکہ بموجب تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کاعین مدعا ہے ) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھکر کوئی گناہ کی بات اور خبث اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن وعافیت زندگی بسر کرے اور اسکی حمایت سے اپنے دینی ودنیوی مقاصد میں بآزادی کوشش کر سکے اسی کا بدخواہ وبداندیش ہو۔بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکر گذار نہ ہو تب تک خدائے تعالےٰ کا بھی شکر گذار نہیں۔ پھر دوسرا فائدہ اس بابرکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کویہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔ فتفکروا و تاملوا۔ منہ