طرف سے کوشش ہوگی کہ تم ٹھوکرکھاؤ اور تم ہر طرح سے ستائے جاؤ گے اور طرح طرح کی باتیں تمہیں سُننی پڑیں گی اور ہریکؔ جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دکھ دے گا وہ خیال کرے گا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے۔ اور کچھ آسمانی ابتلاء بھی تم پر آئیں گے تا تم ہر طرح سے آزمائے جاؤ۔ سو تم اس وقت سُن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہوجانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو۔ یا گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہوجائیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ سو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو ایک خلقت کی اور دوسری خدا کی بھی۔ یقیناًیاد رکھو کہ لوگوں کی *** اگر خدائے تعالیٰ کی *** کے ساتھ نہ ہو کچھ بھی چیز نہیں اگر خدا ہمیں نابود نہ کرنا چاہے تو ہم کسی سے نابود نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر وہی ہمارا دشمن ہوجائے توکوئی ہمیں پناہ نہیں دے سکتا۔ ہم کیوں کر خدائے تعالیٰ کو راضی کریں اورکیونکروہ ہمارے ساتھ ہو۔ اِس کا اُس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقویٰ سے۔ سو اے میرے پیارے بھائیو کوشش کرو تا متقی بن جاؤ۔ بغیر عمل کے سب باتیں ہیچؔ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔ سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچکر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاؤ۔ اور پرہیزگاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔ سب سے اوّل اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اوراخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے حلیم اورسلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شرکا بیج پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہو گی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضاء۔ ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیداہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہوجاتا ہے۔ سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا