بڑی ہتک ہے جس نے یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ اِس اُمّت میں مثیل انبیا ء بنی اسرائیل پیدا ہوں گے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ جس حالت میں اصل عیسیٰ ابن مریم آنےؔ والا نہیں تھا بلکہ اس کا مثیل آنے والا تھا تو یہ کہنا چاہیئے تھا کہ مثیل آنے والا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عام محاورہ ہے کہ جب متکلّم کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ مشبّہ او ر مشبّہ بہٖ میں مماثلت تام ہے تو مشبّہ کا مشبّہ بہٖ پر حمل کر دیتا ہے تا انطباق کلّی ہو جیسے امام بخاری کی نسبت ایک جلسہ میں کہا گیا کہ دیکھو یہ احمد حنبل آیا ہے الخ اور جیسے کہتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور یہ نوشیرواں ہے یہ حاتم ہے یا مثلًا جیسے کوئی کسی کو کہتا ہے کہ تُو گدھا ہے یا بندر ہے۔اور نہیں کہتاکہ تُو گدھے کی مانند ہے یا بند ر کی مانند۔کیونکہ وہ مطلب مماثلت تامہ کا جو اس کے دل میں ہوتاہے مانند کہنے سے فوت ہوجاتا ہے اور جس کیفیت کو وہ ادا کرنا چاہتا ہے وہ ان لفظوں سے ادا نہیں ہوسکتی۔ فتدبّر اُمّت احمد نہاں دارد د۲و ضدرادر وجود مے تواند شد مسیحامے تواند شد یہو د زمرۂ زیشاں ہمہ بدطینتاں را جائے ننگ زمرۂ دیگر بجائے انبیا دارد قعود بعض نہایت سادگی سے کہتے ہیں کہ سلاطین کی کتاب میں جو لکھاہے کہ ؔ ایلیاء جسم کے سمیت آسمان پر اُٹھایا گیا تو پھر کیا مسیح ابن مریم کے اُٹھائے جانے میں کچھ جائے اشکال ہے تو اُن کو واضح ہو کہ درحقیقت ایلیا بھی خاکی جسم کے ساتھ نہیں اُٹھا یا گیا تھا۔ چنانچہ مسیح نے اس کی وفات کی طرف اشارہ کر دیا جبکہ اس نے یہودیوں کی وہ امید توڑ دی جو وہ اپنی خام خیالی سے باندھے ہوئے تھے اور کہدیا کہ وہ ہرگز نہیں آئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ جسم خاکی کے ساتھ اُٹھایا جاتا تو پھر خاک کی طرف اس کارجوع کرنا ضروری تھا کیونکہ لکھا ہے کہ خاکی جسم