دوم۔ قرآن شریف قطعی طورپر عیسیٰ ابن مریم کی موت ثابت وظاہر کرچکا ہے صحیح بخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب سمجھی گئی ہے۔ اس میں فلمّا توفّیتنی کے معنی وفات ہی لکھے ہیں۔ اِسی وجہ سے امام بخاری اس آیت کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ سوم۔ قرآن کریم کئی آیتوں میں بتصریح فرما چکاہے کہ جو شخص مر گیا پھر وہ دنیا میں کبھی نہیں آئے گا۔لیکن نبیوں کے ہمنام اس اُمت میں آئیں گے۔ چہارم۔ قرآن کریم بعد خاتم النبییّن کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہویا پُرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علمِ دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے او رباب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وح ئ رسالت مسدود ہے۔ اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔ پنجم۔ یہ کہ احادیث صحیحہ بصراحت بیان کر رہی ہیں کہ آنے والا مسیح ابن مریم اُمتیوں کے رنگ میں آئے گا۔ چنانچہ اس کو امتی کر کے بیان بھی کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث امامکم منکم سے ظاہر ہے اور نہ صرف بیانؔ کیاگیا بلکہ جو کچھ اطاعت اورپیروی اُمت پر لازم ہے وہ سب اس کے لازم حال ٹھہرائی گئی۔ ششم۔ یہ کہ بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اصل مسیح ابن مریم کا اور حلیہ بتایا گیا ہے اور آنے والے مسیح ابن مریم کا اور حلیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اب ان قرائن ستّہ کے رو سے صریح اور صاف طورپر ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز وہ مسیح نہیں ہے جس پرانجیل نازل ہوئی تھی بلکہ اس کا مثیل ہے اور اِس وقت اُس کے آنے کا وعدہ تھا کہ جب کروڑہا افراد مسلمانوں میں سے یہودیوں کے مثیل ہوجائیں گے تا خدائے تعالیٰ اس اُمّت کی دونو قسموں کی استعدادیں ظاہر کرے نہ یہ کہ اس اُمّت میں صرف یہودیوں کی نجس صورت قبول کرنے کی استعداد ہو اور مسیح بنی اسرائیل میں سے آوے۔ بلاشبہ ایسی صورت میں اس مقدس اور روحانی معلّم اورپاک نبی کی