بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ اَلحَمدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی مسیح کا دوبارہ دنیامیں آنا مسلمانوں اور عیسائیوںکاکسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ ”حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے“میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیز یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں۔ بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الٰہی یہی عاجز ہے اور مجھے یقینا معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بیّنات الہام سے قائم کیا گیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفانہ طور پر اٹھیں گی اور ایک تعجب اور انکار سے بھرا ہوا شور عوام میں پیدا ہو گااور میرا ارادہ تھا کہ بالفعل میں کلام کو طول دینے سے مجتنب رہوں اور اعتراضات کے پیش ہونے کے وقت ان کے دفع رفع کے لیے مفصل وجوہات و دلائل جیسے معترضین کے خیالات کے حالات موجود ہوں پیش کروں لیکن اب مجھے اس ارادہ میں یہ نقص معلوم ہوتا ہے کہ میری کوتاہ قلمی کی حالت میں نہ صرف عوام الناس بلکہ مسلمانوں کے خواص بھی جو اُن کے بعض مولوی ہیں بباعث اپنے قصور فہم کے جو ان کی حالت متنزّلہ کو لازم پڑا ہوا ہے اور نیز بوجہ متاثر ہونے کے ایک پورانے خیال سے خواہ نخواہ میری بات کو رد کرنے کے لیے مدعیانہ کھڑے ہوں گے اور اپنے دعویٰ کے طرف دار بن کر بہرحال اُسی دعویٰ کی سچائی ثابت ہو جانا