اُس سیدھے طور سے مقابلہ کرلیں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے۔ ہمیں بالفعل اُن کی رسول بینی ہی میں کلام ہے۔ چہ جائیکہ اُن کی رسول نمائی کے دعویٰ کو قبول کیا جائے۔ پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعویٰ میں صادق ہیں یا کاذب۔ اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا۔ پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا اعجوبہ بھی دکھلادیں۔ قادیان میں آ جائیں مسجد موجود ہے۔ اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف گزاف ہے اور کچھ نہیں دکھلا سکتے۔ اگر آئیں گے تو اپنی پردہ دری کرائیں گے۔ عقلمند سوچ سکتے ہیں کہ جس شخص نے بیعت کی۔ مریدوں کے حلقہ میں داخل ہوا اور مدت دس سال سے اس عاجز کو خلیفۃ اللہ اور امام او رمجدد کہتارہا اور اپنی خوابیں بتلاتا رہا کیا وہ اس دعویٰ میں صادق ہے۔ میر صاحب کی حالت نہایت قابل افسوس ہے خدا اُن پر رحم کرے۔ پیشگوئیوں کے … رہیں جو ظاہر ہوں گی۔ ازالہ اوہام کے صفحہ۸۵۵ کو دیکھیں۔ ازالہ اوہام کے صفہ۶۳۵ اور ۳۹۶ کو بغور … کریں۔ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ء کی پیشگوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے۔ ویسئلونک احق ھو قل ای ورلبی انہ لحق و ما انتم بمعجزین۔ زوجنا اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ ہاں مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ کھالا مبدل اکلماتی وان یرایۃٍ بعرضواو ہم نے خود اُس سے تیرا عقد نکاح باندھ یا ہے میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کرمنہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور یقولوا سحر مستمر کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے‘‘۔