میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ اُنہوں نے پہلے دیکھا وہ بہرحال اعتبار کے لائق ہوگا اور اگر وہ خوابیں اُن کے اعتبار کے لائق نہیں اور اضغاث احلام میں داخل ہوں تو ایسی خوابیں آئندہ بھی قابلِ اعتبار نہیں ٹھہر سکیں۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعویٰ کس قدر فضول بات ہے۔ حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی سے مبرا ہو سکتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو۔ ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرایہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے اور شیطان لعین تو خدا تعالیٰ کا تمثل اور اُس کے عرض کے تجلی دکھلا دیتا ہے۔ پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے۔ پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقّہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بع ایسے خوارق اور علامات خاصہ ہوں جن کی وجہ سے اُس رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلا دیں یا بعض قضاء قدر کی نزول کی باتوں سے پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلاویں جو پہلے قلمبند اور شائع نہیں ہو چکے تو بِلاشُبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی۔ ورنہ اگر ایک شخص دعویٰ کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بیشک کافر اور دجال ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اُس خواب بین نے چالاکی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنا لی ہے۔ سو اگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھاویں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچاویں کہ درحقیقت اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے اور اگر اُنہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو