کوئی جھگڑا نہیں ہوگا بلکہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے تو ہمیں بتلاؤ کہ آنحضرت ﷺ نے آسمان پر چڑھنے سے کیوںانکار کر دیا تھا کیوں کہدیا تھا کہ بشیر آسمان پر نہیں جا سکتا اور پھر ان لوگوں کے پاس اگر کسی بشر کے آسمان پر جانے کی نظیر موجود تھی تو وہ پیش کر دتیے کیوں وہ اس جواب کے سنتے ہی خاموش ہو گئے ۔ ہمیں بتلاؤ کہ جب انہوں نے آسمان پر چڑھتے دیکھ کر ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا تو کیون نہ آنحضرت ﷺ نے آسمان پر چڑھ کر دکھا دیا یہ کیوں کہہ دیا کہ سبحان رَبیَ ھَل کُنتُ اِلَّا بَشَراً ( بنی اسرائیل :۹۴)
سبحان کا لفظ اس واسطے بولا گیا ہے کہ سبحان کے معنے ہیں ہر عیب سے مبزا لیکن وعدہ کو توڑنا تو سخت عیب ہے ۔خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہو تھا کہ الَم نَجعَلِ الارضَ کِفَا تاً آحیائً وَّ آموَاتًا(المرسلات :۲۶۔۲۷)
جن کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے سمٹنے کے لئے کافی بنایا ہے اور اس میں ایک کشش ہے جس کی وجہ سے زمین والے کسی اور جگہ زندگی بر کر ہی نہیں سکتے ۔اب اگر بشر آسمان پر گیا ہوا مان لیا جاوے تو نعوذ باللہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ توڑ دیا غرض اسی کی تا ئید کے واسطے سبحان کا لفظ بولا گیا ہے کہ اللہ بے عیب ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور میں تو ایک بشر ہوں ۔ بشر آسمان پر نہیں جا سکتا ۔
وفات کے بارہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار
اور پھر دیکھو کہ فَلماَتَوَفَّیتنی میں حضرت عیسی ٰ ؑ کا صاف طور پر اقرار موجود ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں ۔اب ان لوگوں کی یہ عجیب قسم کی مولویت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ تو قیامت کے دن اقرار کریں گے کہ میں دوبادہ زمین پر نہیں گیا اور عیسائیوں کے بگڑنے کا جب اُن سے سوال کیا جائے گا تو وہ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور اپنی بے خبری جتلائیں گے لیکن یہ ہیں کہ ان کو دوبارہ اتار رہے ہیں ۔ اب انصاف سے بتلاؤ کہ کیا یہ ہماری اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں ؟ سوچو تو سہی کہ وہ تو بیچارے بار بار خدا تعالیٰ کے سامنے اقرار کرتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ عیسائیوں نے مجھے پوجا ہے یا کسی اور کو اور اپنے خدایا خدا کا بیٹا بنائے جانے سے لا علمی ظاہر کریں گے مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے دنیا میں نازل ہو ں گے ۔کسر صلیب کرینگے لڑائیاں کریں گے اور سب مشرکوں کو قتل کر کے مسلمان کر دیں گے ۔جس سے ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور باوجود عیسائیوں کے اعتقاد سے خبر رکھنے کے لا علمی ظاہر کریں گے ۔
مامور من اللہ کی صداقت کے نشان
اور پھر یہ یا د رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس کے لئے چند نشان ہو اکرتے جن سے اس کی سچائی پرکھی جاتی ہے
اول یہ کہ وہ پاک اور صاف تعلیم لے کر آتا ہے جب اس کی تعلیم گندی ہو گی تو اس کو قبول کون کریگا ؟ دیکھو