مسئلہ نہیں ہے۔ جس دین کو تعلیم عمدہ ہے جس دین کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے معجزات دکھلائے ہیں اور دکھلا رہا ہے ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ظالم لوگ اسلام پر تلوار کے ساتھ حملے کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے نابود کردیں۔ سو جنہوں نے تلواریں اُٹھائیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے گئے ۔ سو وہ جنگ صرف دفاعی جنگ تھی۔ اب خواہ نخواہ ایسے اعتقاد پھیلانا کہ کوئی مہدی خونی آئے گا اور عیسائی بادشاہوں کو گرفتار کرے گا یہ محض بناوٹی مسائل ہیں جن سے ہمارے مخالف مسلمانوں کے دل خراب اور سخت ہوگئے ہیں اور جن کے ایسے عقیدے ہیں وہ خطرناک انسان ہیں اور ایسے عقیدے کسی زمانہ میں جاہلوں کے لیے بغاوت کا ذریعہ ہو سکتے ہیں بلکہ ضرور ہوں گے سو ہماری کوشش ہے کہ مسلمان ایسے عقیدوں سے رہائی پاویں ۔ یاد رکھو کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ جس میں انسانی ہمدردی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ زمین پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم کیا جاوے۔ والسلام
خاکسار میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واَیَّد
مورخہ ۷؍مئی ۱۹۰۷ئ۱؎
۱۴؍مئی ۱۹۰۷ئ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکسار :۔
ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ حضور نے حقیقۃ الوحی کے لکھنے اور پروفوں کے بارہا پڑھنے میں بہت محنت اُٹھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ باربار حضور کی طبیعت علیل ہو جاتی ہے ۔ اب حضور چند روز بالکل آرام فرمائیں اور پڑھنے لکھنے کے کام کو بالکل ترک فرماویں۔ حضرت نے جواب میں فرمایا:۔
ہماری محنت ہی کیا ہے ۔ ہمیں تو شرم آتی ہے جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محنتوں کی طرف نگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح خوشی کے ساتھ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے سر بھی کٹوا دیئے۔ ۲؎