ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جاوے اور کوئی نقص نہ ہو تو ایک امر ٹل جاتا ہے۔اور جب تقدیر مبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے بہم نہیں پہنچتے۔طبیعت تو دا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی او دل میں گداز پید انہیں ہوتا۔نماز سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بدمزگی پاتا ہے۔جس سے معلوم ہوت اہے کہ انجام بخیر نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔ ؎ٰ اس مقام پر ایک شخصنے عرض کی کہ جب نواب محمد علی خانصاحب کا صاحبزادہ سخت بیمار ہوا تھا تو جناب کو اس قسم کا الہام ہوا کہ تقدیر مُبرَم ہے اور موت مقدر ہے۔لیکن پھر حضور کی شفاعت سے وہ قدیر مبرم ٹل گئی۔آپ نے فرمایا کہ : سید عبد القادر جیلانی ؓ بھی لکھتے ہیں کہ بعض وقت میری دعا سے تقدیر مبرم ٹل گئی ہے۔اس پر شارح شیخ عبد الحق محدث دہلی نے اعتراض کیا ہے کہ تقدیر مبرم تو ٹل نہیں سکتی پھر اس کے کیا معنی ہوئے۔آخر خود ہی جواب دی اہے کہ تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں۔ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیر حقیقی ۔جو مبرم حقیقی ہے وہ تو کسی صورت سے ٹل نہیں سکتی ہے۔جیسے انسان پر موت تو آتی ہے۔اب اگر کوئی چاہے کہ اس پر موت نہ آوے اور یہ قیامت تک زندہ رہے تو یہ نہیں ٹل سکتی۔دوسری غیر حقیقی وہ ہے جس میں مشکلات اور مصائب انتہائی درجہ تک پہنچ چکے ہوں اور قریب قریب نہ ٹلنے کے نظر آویں۔اس کا نام مجازی طور پر مبرم رکھا گیا ہے؛ ورنہ حقیقی مبرم تو ایسی ہے کہ کل انبیاء بھی مل کر دعا کیں کہ وہ ٹل جاوے تو وہ ہرگز نہیں ٹل سکتی۔ فرمایا کہ : صبح کو یہ فقرہ الہام ہوا : ’’خدا تیری ساری مرادیں پوری کر دے گا‘‘