انسان جس دن اس میں فرق آتا دیکھے گا، اسی دن قطع تعلق کردے گا۔جو لوگ خدا تعالیٰ سے اس لیے تعلق باندھتے ہیں کہ ہمیں مال ملے یا اولاد حاصل ہو یا ہم فلان فلاں امور میں کامیاب ہو جائیں، اُن کے تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور ایمان بھی خطرہ میں ہے جس دن ان کے اغراض کو کوئی صدمہ پہنچا اسی دن ایمان میں فرق آجاوے گا۔اس لیے پکا مومن وہ ہے جو کسی سہارے پر خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتا۔ راستباز کی علامت راستبازوں کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ مصیبت سے اُن کو چڑ ہوتی ہے اور جب ایسے موقعہ پر شیطا ن دخل دے کر ان کو بہکانا چاہتا ہے تب ان کی غیرت جوش مارتی ہے اور بجائے اس کے کہ ان کا قدم پیچھے ہٹے وہ آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیطان ہمیں پیچھے ہر گز نہیں ڈال سکتا ۔شیطان بھی ایسے موقعہ پر ہر ایک قسم کے منصوبے اس کی لغزش کے لیی پیش کرتا ہے۔مال ،اولاد،عزت، آبرو،خلقت کی ملامت،طعن وتشنیع وغیرہ سب نقصانوں سے ڈراتا ہے۔لیکن وہ اول ہی سے دل میں فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم ان نقصانوں کی کچھ پروانہ کریں گے۔آخر نتیجہ یہ ہوت اہے کہ شیطان ان کے نزدیک ایک مخنّث سے بھی کمتر ہوتا ہے۔لیکن جس کا دعویی تو ایمان کا ہوتا ہے اور دماغ میں اغراضِ نفسانی بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔تو شیطان بڑی آسانی سے اپنا تسلط اس پر بٹھاتا ہے اور جس راستے چاہتا ہے چلاتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ سفلی خواہشات سے شیطان کا مقابلہ ہرگز نہ ہوسکے گا۔ شیطان کے وجود کا ثبوت ممکن ہے کہ بعض لوگ یہاں ایسے ہوں کہ جو شیطان کے وجود ہی سے منکر ہوں،لیکن میں کہتا ہوں کہ اس کے وجود سے ا نکار بھی نادانی ہے۔کیا وہ مشاہدہ نہیں کرتے کہ انسان میں دو قوتیں موجود ہیں۔بیٹھے بیٹھے ایک لہر اس کے دل میں آتی ہے کہ نیکی کروں اور اکثر اوقات وہ اس کا ایسا پابند ہو جاتا ہے کہ بلا اس کے تقاضا ادا کئے کے رہ ہی نہیں سکتا۔اور اسی طرح کبھی اس کے دل میں ایسی لہر آتی ہے جو کہ بدی کی طرف رغبت دلاتی ہے اور وہ گھر سے اُٹھ کر کنجروں کی طرف چلا اجتا ہے۔پس یہ قوتیں ہیں جن میں سے بدی کے محرک کا نام شیطان رکھ لو۔انسان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ابتدائی مراحل میں ہر ایک شئے کی حقیقت کو سمجھ لیوے جیسے جیسے بتدریج اس کی معرفت ترقی کرتی ہے۔ویسے ویسے وہ باریک در باریک امور کو سمجھتا جاتا ہے۔ آسمان کے ستاروں کو دیکھو کہ وہ اول سوائے نقطوں کے اور کچھ معلوم نہیں ہوتے مگر جب انہی نقطوں کو دور بینوں سے دیکھا جاوے تو کسقدر عجائبات معلوم ہوتے ہیں اور سابقہ معرفت اسکے آگے ہیچ نظر آتی ہے اور انسان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے کہ میں نے ان کو نقطہ کیوں سمجھا۔ایسے ہی شیطان اور فرشتے کے وجود کا حال ہے کہ انکو اول نقطوں کی طرح