آدابِ دعا
درستیٔ اخلاق کے بعد دوسری بات یہ ہے کہ دعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی پاک محبت حاصل کی جاوے۔ہر ایک قسم کے گناہ اور بدی سے دور رہے اور ایسی حالت میسر ہو کہ جس قدر اندرونی آلودگیاں ہیں ان سب سے الگ ہو کر ایک مصفیٰ قطرہ کی طرح بن جاوے۔جب تک یہ حالت میسر نہ ہوگی تب تک خطرہ ہی خطرہ ہے،لیکن دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لیے
فالمد برات امرا (النازعات : ۶)
کہہ کر قرآن شریف میں قسم بھی کھائی ہے۔جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لیے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اس کو حارج ہیں ان سب کو ترک کردے گا اور رسم عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہو گا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کرلے گا۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ کچھ عرصہ دعا کرکے پھر رہ جاتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے اس قدر دعا کی مگر قبول نہ ہوئی؛ حالانکہ دعا کا حق تو اُن سے ادا ہی نہ ہوا۔تو قبول کیسے ہو؟ اگر ایک شخص کو بھوک لگی ہو یا سخت پیاس ہو اور وہ صرف ایک دانہ یا ایک قطرہ لے کر شکایت کرے کہ مجھے سیری حاصل نہیں ہوتی۔تو کیا اس کی شاکیت بجا ہوگی؟ ہرگز نہیں۔جب تک وہ پوری مقدار کھانے اور پینے کی نہ لے گا۔تب تک کچھ فائدہ نہ ہوگا۔یہی حال دعا کا ہے۔اگر انسان لگ کر اُسے کرے اور پورے آداب سے بجا لاوے۔وقت بھی میسر آوے تو امید ہے کہ ایک دن اپنی مراد کو پالیوے۔لیکن راستہ میں ہی چھوڑدینے سے صدہاانسان مر گئے (گمراہ ہو گئے) اور صدہا ابھی آئندہ مرنے کو تیار ہیں۔ایک من پیشاب میں ایک قطرہ پانی کا کیا شئے ہے جو اسے پاک کرے۔اسی طرح وہ بد اعمالیاں جن میں لوگ سر سے پاجون تک غرق ہیں ان کے ہوتے ہوئے چند دن کی دع اکیا اثر دکھا سکتی ہے۔پھر عجب ،خودبینی،تکبر اور ریاوغیرہ ایسے امراض لگے ہویء ہوتے ہیں جو عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے۔اگر صدق اور اخلاص کے قفس میں اُسے قید رکھوگے تو وہ رہے گا ورنہ پروز کر جاوے گا اور یہ بجز خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل نہیں ہوسکتا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فمن کان یرجو القاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا (الکہف : ۱۱۱)
عمل صالح سے یہاں یہ مراد ہیکہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو۔صلاحیت ہی صلاحیت ہو۔نہ عُجب ہو،نہ کبر ہو،نہ نخوت ہو، نہ تکبر ہو،نہ نفسانی اغراض کا حصہ ہو۔نہ روبخلق ہو۔حتیٰ کہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہ ہو۔صرف خدا تعالیٰ کی محبت سے وہ عمل صادر ہو۔جب تک دوسری کسی قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھوکر کھائے گا۔اور اس کانام شرک ہے،کیونکہ وہ دوستی ارور محبت کس کام کی جس کی بنیاد صرف ایک پیالہ چائے یا دوسری خالی محبوبات تک ہی ہے۔ایسا