مسافر دومیل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعائوں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔ سُنّت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنتِ صحیحہ کیسے معلوم ہو؟اس کے جواب میں فرمایا کہ:۔ قرآن شریف،احادیث اور ایک قوم کے تقویٰ طہارت اور سنت کو جب ملایا جاوے تو پھر پتہ لگ جاتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔ نماز اور قرآن شریف کا ترجمہ جاننا ضروری ہیَ مولانا محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ ولا تقربو االصلوٰۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون (النساء :۴۴) سے ثابت ہے کہ انسان کو اپنے قول کا علم ضروری ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ جن لوگوں کو ساری عمر میں تعلموا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔ مزکیّ کی ضرورت ایک عورت کا ذکرکرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرتی تھی۔ایک دن اس نے پوچھا کہ درود میں صل علیٰ محمد آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔خاوند نے کہا۔محمد ﷺہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ ہائے ہائے مَیں ساری عمر بیگانہ مرد کا نام لیتی رہی(یہ حالت آج کل اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور پھر اس پر کہا جاتا ہے کہ ایک مزکیّ انسان کی ضرورت نہیں ہے) قرآن کا صرف ترجمہ کافی ہے کہ نہیں فرمایا۔ہم ہرگز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کو صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میںنہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ ﷺ نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔ ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھا گیا ہے فرمایا کہ:۔ اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔