ہو جا تا ہے کہ آگ میں اور اس میں کو ئی فر ق نہیں ہوہتا اور آگ سے ہو جا وے تو بھی مفید شئے ضرور رہتا ہے ۔صر ف اتنی با ت ہو تی ہے کہ چر ک اس میں نہیں رہتا ۔آگ اپنے رنگ میں لا کر چر ک اس سے دورکر دیتی ہے ۔ تو بہ کی انتہا فنا ہے ۔جس کے معنے رجو ع کے ہیں یعنی خدا تعا لیٰ کے نزدیک ہو نا ۔یہی آگ ہے جس سے انسا ن صا ف ہو تا ہے ۔جو شخص اس کے بزدیک قد م رکھنے سیڈر تا ہے کہ کہیں آگ سے جل نہ جا وے وہ نا قص ہے لیکن جو قدم آگے رکھتا ہے اور جیسے پر وانہ آگ میں گر کر اپنے وجو د کو جلا تا ہے ویسے ہی وہ بھی گر تا ہے ۔وہ کا میا ب ہو تا ہے ۔مجا ہدا یت کی انتہا فنا ہی ہے ۔ مقا م لقا ء اس کے آگے جو لقا ء ہے وہ امر کسی نہیں بلکہ وہبی ہے ۔اس کا روبا ر کا انتہا مر نا ہے اور یہ تخمر یزی ہے ۔اس کے بعد روئیدن یعنی پیدا کر نا وہ فعل خداکا ہے ۔ایک دا نہ زمین میں جا کر جب با لکل نیست ہو تا ہے تو پھر خدا تعا لیٰ اسے سبز ہ بنا دیتا ہے مگر یہ مر حلہ بہت خو فنا ک ہے ۔ با لکل ٹھیک کہا ہے ؎ عشق اول سر کش وخو نی بو د : تا یز د ہر کہ نیر ونی بود جب آدمی سلو ک میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ہا بلا اس پر نا زل ہو تی ہیں جیسے جنا ب اور دیو نے حملہ کر دیا ہے مگر جب وہ شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں اب واپس نہ ہو ں گا اور اسی راہ میں جا ن دے دو نگا تو پھر وہ حملہ نہیں ہو تا اور آخر کا ر وہ بلا ایک با غ میں متبد ل ہو جا تی ہے اوت جو اس سے ڈرتا ہے اس کے لیے وہ دوزخ بن جا تی ہے ۔ اس کا انتہا ئی مقا م با لکل دوزخ کا تمثل ہو تا ہے تا کہ خدا تعا لیٰ اسے آزما وے جس نے اس دوزخ کی پر وا نہ کی وہ کا میا ب ہوا ۔یہ کا م بہت نا زک ہے ۔بجز مو ت کے چا رہ نہیں ۔ (البد ر جلد نمبر ۸ صفحہ ۶۲ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ ئ؁) ۹ ما رچ ۱۹۰۳ ئ؁ دوران سیر وبا زدہ علا قہ میںما مو ر یا نبی کے جا نے کی تعبیر ایک شخص کی خوا ب پر فرما یا کہ :۔ معبر ین نے لکھا ہے کہ اگر وبا ئی جگہ پر کو ئی ما مو ر نبی گیا ہو ا دیکھا جا وے تو جا ننا چا ہیئے کہ وہا ں آرام ہو گا کیو نکہ وہ لو گ خدا کی رحمت سا تھ لا تے ہیں ۔