نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف ہیں جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں۔بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہو گئی ہے۔ بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں مگر ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ چونکہ ان کی دعائیں بوجہ آداب دعا سے ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں۔کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں۔اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔ان کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔دعا کے لئے سب سے اول اس مار کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے۔اور اﷲ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔بعض اوقات دیکھ اگیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی کہ جب مقصد کا شگوفہ سر سبر ہونے کے قریب ہوتا ہے۔دعا کرنے والے تھک گئے ہیں۔جس کا نتیجہ ناکامی اور نامرادی ہو گیا ہے۔اور اس نامرادی نے یہاں تک برا اثر پہنچایا کہ دعا کی تاثیرات کا انکار شروع ہوا۔اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خد اکا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعائوں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعائیں کی گئی کیوں کر قبول نہ ہوئیں؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے اوالا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلوّن کو سوچے تو اسے معلوم ہو جائے کہ ساری نامرادیاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہین’جب پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔پس کبھی تھکنا نہیں چاہیئے۔ دعا کی ایسی ہی حالت ہے ۔جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے۔اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا ۔اس وقت کوئی کای سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشونما پا کر پھل لائے گا۔باہر کی دنای اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بننے لگتا ہے اور تیار