خد اکا خوف ایسی شئے ہے کہ انسان کی خصی کر دیتا ہے۔ ایک رؤیا نماز عشاء کے بعد حضور پھے تھوڑی دیر کے لئے شہ نشین پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مجھے رؤیا ہوا ہے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی سر سے ننگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آیا ہے اس سے مجھے سخت بدبو آتی ہے میرے پاس آکر کہتا ہے کہ میرے کان کے نیچے طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے میں اسے کہتا ہوں کہ پیچھے ہٹ جا۔پیچھے ہٹ جا۔ آپ نے فرمایا کہ:- اس کے ساتھ تفہیم الٰہی کوئی نہیں ہوئی۔؎ٰ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۲ء؁بروز دو شنبہ اعجاز احمدی اور مخالفین حضرت اقدسؑ آٹھ بجے کے قریب سیر کے لئے تشریف لائے اور قادیان کی مشرقی طرف چلے۔اعجاز احمدی کا ذکر ہوتا رہا۔ کہ یہ مخالف اب اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔ہاں بعض یہ کہیں گے کہ اگر ہم چاہیں تو اس کا جواب لکھ سکتے ہیں اس پر نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر سنایا کہ دہلی میں ایک مولوی نے اعجاز المسیح کو دیکھ کر یہی کہا تھا کہ اگر چاہیں تو ہم اس کا جواب لکھ سکتے ہیں مگر کون وقت ضائع کرے حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ وہی مثال ہے کہ ایک شخص نے مشتہر کیا کہ میرے پاس ایک بکری ہے جو شیر کو مار لیتی ہے بشرطیکہ وہ چاہے۔ فرمایا یہی حیلہ کریں گے اگر ہم چاہتے تو جواب لکھ سکتے ہیں،۔اسی طرح یہ لوگ ارادہ نہیں کرتے یہی ان کا حیلہ ہوتا ہے’پھر فامایا کہ اعجاز احمدی کا اردو حصہ بھی ہمارے تمام رسالوں کا نچوڑ ہے۔پھر فرمایا کہ ابھی کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت کے کون کون پوشیدہ لوگ ان کے درمیان ہیں وقت آئے