ہر ایک کو واجب ہے کہ خوب سمجھے اور اپنے بھائی کو سمجھاوے اور گھروں میں عورتوں کو سمجھا وے۔حاضر غائب کو بتلا دے۔دھوکا کھانے والے بہت ہوں گے کیونکہ ابتدائی حالت ہے اسم نویسی کرو اکر کوئی خیال نہ کرے کہ صرف اتنے ہی فعل سے وہ خد اکی حفاظت میں آگیا۔؎ٰ
۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ (بوقت سیر)
الدار کی حفاظت کے متعلق الہام
فرمایا کہ :-
آج کوئی پہر رات باقی ہوگی کہ الہام ہوا :-
انی احافظ کل من فی الدار ولنجعلہ ایۃ لناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا۔عندی معالجات۔
اور یہ بھی الہام ہوا مگر اصل لفظ یاد نہیں کہ ایمان کے ساتھ نجات ہے۔
یعنی انی احافظ کو ایک آیت بنادیں گے اور کہ علاج ہمارے ہی پاس ہے مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی معلوم ہوتا ہے کہ اب اﷲ تعالیٰ کچھ کھلا کھلا دکھانا چاہتا ہے اب گویا بڑا معاملہ ہے ایک قوم تمنا سے ٹیکہ کراتی ہے دوسری طرف ہم ہیں جو بالکل خدا پر چھوڑتے ہیں جس وقت مجھے یہ الہام ہوا اس وقت میں نے گھر میں پوچھا کہ تم کو بھی کوئی خواب آیا ہے کیونکہ دیکھا ہے کہ میرے الہام کے ساتھ ان کو بھی کوئی مصدق خواب آجایا کرتا ہے انہوں نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا بکس ادویہ کا چراغ لایا ہے ۲؎ اور شیخ رحمت اﷲ صاحب نے روانہ کیا ہے جب کھولا گیا تو دیکھا کہ ہزارہا شیشیاں اس مین دوا کی ہیں کوئی بڑی کوئی چھوٹی۔تب گھر میں تعجب کیا کہ کبھی کدائیں ۳؎ دس بارہ شیشیاں منگوائی جاتی تھیں مگر یہ ہزار ہا شیشیاں کیوں منگوائی گئیں۔