دابۃ الارض دابتہ الارض کے دو معنے ہیں ۔ایک تو وہ علماء جن کو آسمن سے حصہ نہیں ملا۔وہ زمین کے کیڑے ہیں۔دوسرے دابتہ الارض سے مراد طاعون ہے۔ دابۃ الارض تا کل منسا تہ (سبا : ۱۵) قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ جبتک انسان میں روحانیت پیدا نہ ہو۔یہ زمین کا کیڑا ہے۔اور طاعون کی نسبت بھی سب نبیوں نے پیشگوئی کی تھی۔کہ مسیح کے وقت پھیلے گی۔تکلم الناس۔تکلیم کاٹنے کو بھی کہتے ہیں۔ارو خود قرآن شریف نے ہی فیصلہ کر دیا ہے۔اس سے ئگے لکھ دیا ہے کہ وہ اس لیے لوگوں کو کاٹے گی۔کہ ہمارے مامور پر ایمان نہیں لائے۔ یہ غور کرنے کے مقام ہیں۔اب زمانہ قریب آگیا ہے اور لوگ سمجھ لیں گے۔طاعون بڑا بھاری کتب مقدسہ اور احادیث میں مسیح موعود کا نشان ہے۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ہوئی تھی۔خدا تعالیی نے مجھے جو کچھ طاعون کی نسبت فرمایا ہے۔اُسے میں نے مفصل لکھ دیا ہے۔یہ میرا نشان ہے۔جس قدر اس کا تعلق پنجاب سے ہے،دوسرے حصہ ملک سے نہیں ہے۔یہ اس لیے کہ اصل جڑ اس کی پنجاب میں مخفی ہے۔سہارن پور وغیرہ میں جو لوگ اس سلسلہ کو ب۲ری نظر سے دیکھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پنجاب کی طرف سے تکفیر کا فتویٰ تیار ہوا ہے اور پنجاب والوں نے پیش دستی کی ہے اور تہمتیں لگا کر بدنام کیا ہے۔مگر اب جو یہ بلا آئی ہے۔سوچ کر دیکھو تو دشمن اسی طریق سے مانے گا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تو یہ خیال کرتے ہو کہ وہ زمین میں دفن ہوئے اور حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ عقیدہ کہ وہ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور پھر یہ کہ مسیح مردے زندہ کرتے تھے اور وہ خالق تھے ا۲نہوں نے پرندے بنائے یہاں تک کہ لاکھوں کروڑوں پر ندے اب بھی موجود ہیں۔میں نے ایک اہل حدیث سے پوچھا کہ اگر دوجانور پیش کیے جاویں،تو کیا آپ فرق کر سکتے ہیں اور بتا سکتے ہیں۔کہ یہ مسیح کا ہے اور وہ خد اکا ہے۔اس نے یہی کہا کہ اب رَل مِل گئے ہیں۔اس لیے تمیز نہیں ہوسکتی۔پھر جب حضرت عیسیٰ کو خالق مانتے ہیں۔محی مانتے ہیں۔عالم الغیب مانتے ہیں۔اور بقول اُن کے قرآن میں اُن کی موت کا بھی کہیں ذکر نہیں تو پھر خدا بنانے میں کیا شک رہا۔تعجب کی بات ہے کہ وہی متوفیک کا لفظ حضرت مسیح کی نسبت آئے۔تو اس کے معنے ہوں جسم سمیت آسمان پر اُٹھانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آئے تو کہہ دیا جائے کہ اس کے معنے ہیں مرنا۔اب غور کر کے بتائو کہ عیسائیوں کو کتنا بڑا موقع اور ہتھیار حملہ کرنے کا آپ د یدیا ہے۔اگر عیسائی سوال کریں تو پھر ان کے پاس کیا جواب ہے۔آپ نہ پڑھ سکیں گے کہ انی متوفیک یا فلما توفیتنی کیونکہ اس کے معنے انہوں نے آسمان پر زندہ اٹھانے کے کئے ہیں۔پھر کس آیت سے ان کی وفات ثابت کریں گے اور خدائی کو باطل کریں گے۔ یقینا سمجھو کہ ان ہتھیاروں سے ان پر فتح نہیں پاسکتے۔ان پر فتح اور کسر صلیب کے لیے وہی ہتھیار اور