دو گروہ
خدا تعالیٰ نے دو گروہ بنا دیئے ہیں۔جیسے صدر اسلام میں تھے۔ایک ضعفاء اور غرباء کا گروہ ہے اور دوسرے وہ جو نفسانیت رکھتے ہیں۔
دربارِ شام
۶؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
بعد ادائے نماز مغرب حصرت حجۃالارض حسب معمول شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔
میاں غلام رسول حجّام امرتسر نے اپنی مشکلات کا ذکر کیا۔کہ مخالف کس طرح پر ان کو تکلیفیں دیتے ہیں۔اور اس ین یہ بھی ذکر کیا کہ وہ غلام محمد لڑکا جس نے یہاں س یجاکر ایک گندہ اشتہار شائع کیا ہے وہ سخت تکلیف میں ہے۔
ایک ہندو فقیر کوٹ کپورہ سے آیا ہوا تھا۔جو آج صبح بھی ملا تھا۔اس وقت پھر اس نے سلام کیا۔حضرت اقدس نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ :
یہ ہمارا مہمان ہے اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کردینا چاہیے۔
چنانچہ ایک سخص کو حکم دیا گیا اور وہ ایک ہندو کے گھر اس کو کھانا کھلانے لے گیا۔
میاں غلام رسول نے پھر اپنی تکلیف کا ذکر کیا اور کہا کہ امرتسر کے مخالفوں نے باہم اتفاق کر کے یہ سازش کی ہے کہ جن گھروں میں کھانا پکانے جایا کرتا تھا۔اُن کو بند کر دیا ہے کہ وہ مجھ سے کھانا نہ پکوائیں۔
حضرت اقدس نے فرمایا :
صبر کرنا چاہیے۔خبر ہے کہ تمہارے لیے کتنے گھر خدا نے رکھے ہیں؟اون اُن سے دوچند سہ چند تم کو مل جائیں گے۔طاعون شروع ہو گئے ہے اور وہ ابھی ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔اس لیے تم ان باتوں کا ذکر ہی نہ کرو کہ گھر چھوٹ گئے ورنہ ثواب جاتا رہے گا۔
طاعون کی اقسام طاعون کے ذکر پر فرمایا :
تین قسم کی طاعون ہے۔اول صرف تپ چڑھتا ہے اور گلٹی بکلتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ سخت تپ ہی ہوتا ہے۔اور بعض ایسی ہوتی ہے کہ نہ تپ ہے نہ کچھ اور بس خاتمہ ہی ہو جاتا ہے۔