اسلام کا عظیم الشان اعجاز
اسلام کا سب سے بڑا اور عظیم الشان معجزہ جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔ وہ اس کی حقانیت اور روشنی ہے وہ کسی پہلو سے شرمندہ نہیں ہوتا۔تمام حقائق اور صداقتیں اسلام میں موجود ہیں۔ ہر ایک پہلو سے کامل۔سب کے حملوں کا جواب دیتا ہے اور دوسروں پر ایسا حملہ کرتا ہے کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا۔
درازیٔ عمر کا راز
ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر دراز ہو، لیکن بہت ہی کم ہیں وہ لوگ جنہوں نے کبھی اس اصول اور طریق پر غور کی ہو جس سے انسان کی عمر دراز ہو۔ قرآن شریف نے ایک اصول بتایا ہے۔
واماماینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد : ۱۸)
یعنی جو نفع رساں وجود ہوتے ہیں۔اُن کی عمر دراز ہوتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو درازیٔ عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے مفید ہیں؛حالانکہ شریعت کے دو پہلو ہیں۔اوّل خدا تعالیٰ کی عبادت۔دوسرے بنی نوع سے ہمدردی۔ لیکن یہاں یہ پہلو اس لیے اختیار کیا ہے کہ کامل عبد وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے ۔پہلے پہلو میں اوّل مرتبہ خدا تعالیٰ کی محبت اور توحید کا ہے۔ اس میں انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اور اس کی صورت یہ ہے۔ اُن کو خدا کی محبت پیدا کرنے اور اس کی توحید پر قائم ہونے کی ہدایت کرے جیسا کہ
وتواصوابالحق (العصر : ۴)
سے پایا جاتا ہے۔ انسان بعض وقت خود ایک امر کو سمجھ لیتا ہے،لیکن دوسرے کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوتا۔ اس لیے اُس کو چاہیے کہ محنت اور کوشش کر کے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاوے۔ ہمدردیٔ خلائق یہی ہے کہ محنت کر کے دماغ خرچ کر کے ایسی راہ نکالے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے تا کہ عمر دراز ہو۔
اماماینفع الناس (الرعد : ۱۸)
کے مقابل پر ایک دوسری آیت ہے جو دراصل اس وسوسہ کا جواب ہے کہ عابد کے مقابل نفع رساں کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور عابد کی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر چہ میں نے بتا یا ہے کہ کامل عابد وہی ہو سکتا ہے، جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے، لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے اور وہ آیت یہ ہے۔
قل مایعبؤا ابکم ربی لو لا دعاؤ کم (الفرقان : ۷۸)
یعنی ان لوگوں کو کہہ دو۔ کہ اگر تم لوگ رب کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پرواہ کرتا ہے۔ وہ عابد زاہد جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ بنوں اور جنگلوں میں رہتے اور تارک الدنیا تھے۔ ہمارے نزدیک وہ بودے اور کمزور تھے۔ کیونکہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو شخص اس حدتک پہنچ جاوے کہ اﷲ اور اس کے رسول کی کامل معرفت ہو جاوے وہ کبھی خاموش رہ سکتا ہی نہیں۔ وہ اس ذوق اور لذت سے سرشار ہو کر دوسروں کو اس سے آگاہ کرنا چاہتا ہے۔