بیدمشک اور کیوڑہ کا استعمال منشی الٰہی بخش اور اُس کے دوسرے رفیق اعتراض کرتے ہیں کہ میں بیدمشک اور کیوڑہ کا استعمال کرتا ہوں یا اور اس قسم کی دوائیاں کھاتا ہوں۔تعجب ہے کہ حلال او رطیب چیزوں کے کھانے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر وہ غور کر کے دیکھتے اور مولوی عبداﷲ غزنوی کی حالت پر نظر رکھتے تو میرا مقابلہ کرتے ہوئے اُن کو شرم آجاتی۔ مولوی عبد اﷲ کو بیویوں کا استغراق تھا، اس لیے انڈے اور مرغ کثرت سے کھاتے تھے۔ یہانتک کہآخیر عمر میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ میری شہادت مل سکتی ہے کہ مجھے کیوڑہ وغیرہ کی ضرورت کس وقت پڑتی ہے۔ میں کیوڑہ وغیرہ کا استعمال کرتا ہوں جب دماغ میںاختلال معلوم ہوتا ہے یا جب دل میں تشنج ہوتا ہے۔ خدائے وحدہٗ لا شریک جانتا ہے کہ بجز اس کے مجھے ضرورت نہیں پڑتی۔ بیٹھے بیٹھے جب بہت محنت کرتا ہوں تو یکد فعہ ہی دورہ ہوتا ہے۔ بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ قریب ہے کہ غش آجاوے اس وقت علاج کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ہر روز باہر سیر کو جاتا ہوں۔ مگر مولوی عبداﷲ جو کچھ کرتے تھے یعنی مرغ۔ انگور۔انڈے وغیرہ جو استعمال کرتے تھے اس کی وجہ کثرت ازدواج تھی اور کوئی سبب نہ تھا۔انبیاء علیہم السلام ان چیزوں کا استعمال کرتے تھے مگر وہ خدا کی راہ میں فداپتھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی گھبراتے تھے، تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی ران پر ہاتھ مار کر کہت یکہ اے عائشہ ہم کو راحت پہنچا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو سارا جہان دشمن تھا۔ پھر اگر اُن کے لیے کوئی راحت کا سامان نہ ہو، تو یہ خدا کی شان کے ہی خلاف ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے کہ جیسے کا فور کے ساتھ دو چار مرچیں رکھی جاتی ہیں کہ اُڑ نہ جائے۔ اسلام کا آئندہ غلبہ اﷲ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے وہ تعلیم اور تربیت کے لیے کرتا ہے؛ چونکہ شوکت کا زمانہ دیر تک رہتا ہے اور اسلام کی قوت اور شوکت صدیوں تک رہی اور اُس کے فتوحات دور دراز تک پہنچے۔اس لیے بعض احمقوں نے سمجھ لیا کہ اسلام جبر سے پھیلایا گیا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم ہے لا اکرا ہ فی الدین (البقرہ : ۲۵۷) اس امر کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کہ اسلام جبر سے نہیں پھیلا۔ اﷲ تعالیٰ نے خاتم الخلفاء کو پیدا کیا اور اس کا اکام یضع الحرب رکھ کر دوسری طرف لیظھرہ علے الدین کلہ (الصف : ۱۰) قرار دیا۔ یعنی وہ اسلام کا غلبہ مل ہالکہ پر حجت اور براہین سے قائم کرے گا اور جنگ و جدال کو عُٹھا دے گا۔ وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو کسی خوُنی مہدی اور خونی مسیح کا انتظار کرتے ہیں۔