صر ف یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے کچھ وصول کریں اور دنیا کماویں۔یہ غرض جب اس کی باتون کے ساتھ ملتی ہے تو حقانیت اور للہیت کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے اور وہ لذت اور معرفت کی خوشبوجو کلام الہی کے سننے سے دل و دماغ میں پہنچتی ہے اور روح کو معطر کر دیتی ہے۔وہ خود غرضی اور دنیا پرستی کے تعفن میں دب کر رہ جاتی ہے اور اسی مجلس میں لوگ کہہ اٹھتے ہیں۔میان یہ ساری باتیں ٹکڑا کمانے کی ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اکثر لوگوں نے امر بالمعروفاور نہی عن المنکر کو ذریعہ معاش قرار دے دیا ہے،لیکن ہر ایک ایسا نہیں ہے۔
ایسے پاک دل انسان بھی ہوتے ہیں جو صرف اس لیے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے لئے وہ مامور ہیں اور اس کے فر ض کو سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں۔وعظ کا منصب ایک اعلی درجہ کا منصب ہے۔اور وہ گویا شان نبوت اپنے اندر رکھتا ہے۔بشر طیکہ کہ انسان ترسی کو اپنے اندر لایاجاوے۔
وعظ کہنے والا اپنے اندر ایک خاص قسم کی اصلاح کا موقعہ پا لیتا ہے۔کیونکہ لوگون کے سامنے یہ ضروری ہوتا ہے کہ کم از کم اپنے عمل سے بھی ان باتون کو کر کے دکھاوے جو وہ کہتا ہے۔
بہر حال اگر ایک آدمی اپنی ہی غرض اور منشاء کے لئے کوئی بھلی بات کہے تو اس پر یہ لازم نہیں آتاکہ اس سے اس لئے اعراض کیا جاوے کہ وہ اپنی کسی ذاتی غرض کی بناء پر کہہ رہا ہے۔وہ بات جو کہتا ہے وہ تو بجائے خود ایک عمدہ بات ہے۔نیک دل انسان کو لازم ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے جو وہ کہہ رہا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ان اغراض ومقاصد پر بحث کرتا رہے جن کو ملحوظ رکھ وعظ کہہ رہا ہے۔سعدی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎
مرد باید کہ گیرد اندر گوش
گر نوشت است پند بر دیورا
قائل کی بجائے قول کی طرف دیکھو یہ بالکل سچی بات ہے کہ قول کی طرف دیکھو۔قائل کی طرف مت خیال کرو۔اس طرح پر انسان سچائی کے لینے سے محروم رہ سکتا ہے اور اندر ہی اندر ایک عجب نخوت کا بیج پرورش پا جاتا ہے،کیونکہ اگر یہ صرف سچائی اور صداقت کا طالب ہے تو پھر دوسروں کے عیب شماری سے اس کو کیا غرض۔
واعظ اپنے لئے کوئی ایک بات نکال لے،مگر تم کو اس سے کیا غرض۔تمہارا مقصود اصلی تو طلب حق ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ بے موقع،بے محل،بے ربط بات شروع کر دیتے ہیں اور پتدونصیحت کرتے وقت امور مقتضائے وقت کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ان امراض کا لحاظ رکھتے ہیں۔جن میں مخاطب مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اپنے