اس کے لئے بمنزلہ جان ہوتی ہے اور جس طرح زندگی کے واسطے لوازم زندگی ہیں۔اسی کی زندگی کے واسطے خدا اور صرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کی خوشی اور راحت خدا ہی میں ہوتی ہے ۔پھر دنیا داروں کے نزدیک اسے کوئی رنج اور کرب پہنچے تو پہنچے،لیکن اصل یہی بات ہے کہ اس ہم وغم میں بھی وہ اطمینان اور سکینت سے الہی لذت لیتا ہے جو کسی دنیا دار کی نظر میں بڑے سے بڑے فارغ البال کو بھی نصیب نہیں۔
بر خلاف اس کے جو کچھ حالت اس کی اور انسان کی ہے،وہ جہنم ہے۔گویا خدا تعالیٰ کے سوا زندگی بسر کرنا یہ بھی جہنم ہے۔
پھر حدیث شریف سے بھی پتی لگتا ہے کہ تپ بھی حرارت جہنم ہی ہے۔امراض اور مسائب جو مختلف قسم کے انسان کو ہوتے ہیں۔یہ بھی جہنم ہی کا نمونہ ہے اور یہ اس لئے کہ تا دوسرے عالم پر گوہ ہوں ا ور جزا وسزا کے مسئلہ کی حقیقت پر دلیل ہوں اور کفارہ جیسے لغو مسئلہ کی تردید کریں۔مثلاً جزم ہی کو دیکھو کہ عضا گر گئے ہیں اور رقیق مادہ اعضاء سے جاری ہے۔آواز بیٹھ گئی ہے۔ایک تو یہ بجائے خود جہنم ہے۔پھر لوگ نفرت کرتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں۔عزیز سے عزیز بیوی،فرزند ،ماں باپ تک کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔بعض اندھے اور بہرہ ہو جاتے ہیں۔بعض اور خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پتھریاں ہو جاتی ہیں اور پیٹ میں رسولیاں ہو جاتی ہیں۔یہ ساری بلائیں اس لئے انسان پر آتیں ہیں کہ وہ خدا سے دور ہو کر زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کی عزت اور پروہ نہیں کرتا ہے۔اس وقت ایک جہنم پیدا ہو جاتا ہے۔
اب پھر میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے جہنم کے لئے اکثر انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا ہے۔اور پھر فرمایا کہ یہ جہنم انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے۔ان کو جنت کی طرف بلایا جاتا ہے۔پاک دل پاکیزگی سے باتیں سنتا ہے اور ناپاک خیال انسان اپنی کورانہ عقل پر عمل کر لیتا ہے۔پس آخرت کا جہنم بھی ہو گا اور دنیا کے جہنم سے بھی مخلصی اور رہائی نہ ہو گی،کیونکہ دنیا کا جہنم تو اس جہنم کے لئے بطور دلیل اور ثبوت کے ہے۔ ؎۱
وعظ کا منصب نا اہل پالیدلوگ سچی اور حکمت کی بات سن ہی نہیں سکتے اور جب کبھی کوئی بات معرفت اور حکمت کی ان کے سامنے پیش کی جائے تو وہ اس پر توجہ نہیں کرتےبلکہ لا پرواہی سے ٹال دیتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ وہ لوگ جو حق کہیں وہ بھی تھوڑے ہیں۔محض اللہ تعالیٰ کے لئے کسی کو حق کہنے والے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔گویا ہے ہی نہیں۔علی العموم واعظ وعظ کہتے ہیں،لیکن ان کی اصل غرض اور مقصود