۱۹؍جنوری ۱۸۹۸؁ء چودھویں صدی کے مجددکا کام بعدنماز مغرب فرمایا:’’عیسائیوں کا فتنہ اُمّ الفتن ہے، اس لیے چودہویں صدی کے مجدد کا کام یکسرُالصلیب ہے۔ پھر چونکہ یہ علامت اُس پر صادق آئی، اس لئے چودہویں صدی کامجدد مسیح موعود قرار پایا۔ کیونکہ احادیث سے مسیح موعود کا کام یکسرُالصلیب ثابت ہے۔ اب جب کہ ہمارے مخالفوںکوماننا پڑتا ہے کہ چودہویں صدی کے مجدد کا کام یکسرالصلیب ہی ہونا چاہئے، کیونکہ اس کے سامنے یہی مصیبت ہے۔ پھر انکار کے لئے کون سی گنجائش ہے کہ مسیح موعود چودہویں صدی کا مجدد ہی ہوگا۔ ہماری توجہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو حق کی پیاس ہے، لیکن جو حق کی تلاش نہیں چاہتے ، جن کی طبیعتیں معکوس ہیں وُہ ہم سے کیا فائدہ اُٹھاسکتے ہیں؟ یادرکھوہدایت تواُن کو ہوتی ہے جو تعصب سے کام نہیں لیتے۔ وُہ لوگ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو تدبر نہیں کرتے۔ پس طالب ہدایت سمجھ لے کہ موجودہ حالتوں میں چودھویں صدی کے مجدد کا یہ کام ہے کہ کسرِ صلیب کرے۔کیونکہ صلیبی فتنہ خطرناک پھیلاہوا ہے۔ اسلام ایسادین تھا کہ اگر ایک بھی اس سے مرتدہوجاتا،توقیامت برپا ہوجاتی تھی، لیکن اب کس قدر افسوس ہے کہ مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وُہ لوگ جو مسلمانوں کے گھر میں پیداہوئے تھے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی نسبت جس کی پاک باطنی کی کوئی نظیردنیا میں موجود نہیں۔ قسم قسم کے دل آزاد بہتان لگارہے ہیں کہ کروڑوں کتابیں اس سیدالمعصُومین کی تکذ یب میں اُس گرہ کی طرف سے شائع ہوچکی ہیں۔ بہت سے مستقل ہفتہ وار اور ماہواراخباراور رسالے اس غرض کے لئے جاری کررکھے ہیں۔ پھر کیا ایسی حالت میں خداتعالیٰ کوئی مجدد نہ بھیجتا؟ اور پھر اگر کوئی مجدد آتا، تو تم ہی خداکے واسطے سوچ کر بتائو کہ کیا اس کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وُہ رفع یدین کے جھگڑے کرے یا آمین بالجہرپرمرتاپھرے۔ غورتوکروجو مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے طبیب اس کا علاج کرے گا، نہ کسی اور مرض کا۔رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی حدہوچکی ہے۔ لکھتا ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اپنی ماں سے سُن کر اس کوماردیا تھا۔ یہ غیرت اور حمیّت تھی مسلمانوں کی، مگر آج یہ حال ہوگیا ہے کہ توہین کی کتابیں پڑھتے اور سنتے ہیں۔ غیرت نہیں آتی اور اتنا نہیں ہوسکتا کہ اُن سے نفرت ہی کریں ، بلکہ اُلٹا جس شخص کو خدانے خاص اس فتنہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور جلال کے لئے خاص قسم کی غیرت لے کر آیا ہے۔ اُس کی مخالفت کرتے ہیں اور اُس پر ہنسی اورٹھٹھاکرتے ہیں۔ خداتعالیٰ ہی ان لوگوں کو