3 ۱ ؂ صفحہ ۲۲۵۔ الاعراف الجزو نمبر ۹ 333۲ ؂ ۔ صفحہ ۲۲۸۔ اور جو لوگ محکم پکڑتے ہیں کتاب کو اور نماز کو قائم کرتے ہیں اُن کے ہم اجر ضائع نہیں کرتے۔ 3۳ ؂ صفحہ ۲۲۹۔ رُوحوں کے قویٰ جن میں خدا تعالیٰ کا حق پیدا ہوا ہے بزبان حال گواہی دے رہے ہیں جو وہ خدا کے ہاتھ سے نکلے ہیں۔ پس اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہم کس طرح قرآن شریف پر ایمان لاویں کیونکہ دونوں تعلیموں میں تناقض درمیان ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی تناقض نہیں وید کی شرتیوں کی ہزارہا طورپر تفسیریں کی گئی ہیں۔ اور منجملہ ان کے ایک تفسیر وہ بھی ہے جو قرآن کے مطابق ہے۔ 3 جوشخص خدا سے نہیں ڈرتا۔ وہ ایک حق الامر کے بارے ایسا مقابلہ سے پیش آتا ہے کہ گویا اُس کو موت کی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔ اور وہ اپنی جان بچا رہا ہے۔ 3۴؂ صفحہ۲۳۹۔سورۃ الانفال الجزو نمبر ۹۔3۵ ؂ ۔(ترجمہ) اے ایمان والو ! اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خداایک فرق رکھ دے گا اور تمہیں پاک کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہارا خدا صاحب فضل بزرگ ہے۔ یادداشت۔ دین مذہب صرف زبانی قصہ نہیں بلکہ جس طرح سونا اپنی علاؔ متوں سے شناخت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سچی ہدایت کا پابند اپنی روشنی سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ خدا ہلاک کرتا ہے اس شخص کو جو دلیل کے ساتھ ہلاک ہوچکا۔ اور زندہ رکھتا ہے