میں ایسی تبدیلی پیدا ہو گئی کہ وہ وحشیانہ حالت سے انسان بنے اور پھر انسان سے مہذب انسان ۔ اور مہذب انسان سے باخدا انسان ۔ اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہوگئے کہ انہوں نے ایک بے حس عضو کی طرح ہر ایک دکھ کو برداشت کیا۔ وہ انواع اقسام کی تکالیف سے عذاب دیئے گئے اور سخت بے دردی سے تازیانوں سے مارے گئے اور جلتی ہوئی ریت میں لٹائے گئے اور قید کئے گئے اور بھوکے اور پیاسے رکھ کر ہلاکت تک پہنچائے گئے ۔ مگرؔ انہوں نے ہر یک مصیبت کے وقت آگے قدم رکھا ۔ اور بہتیرے ان میں ایسے تھے کہ ان کے سامنے ان کے بچے قتل کئے گئے اور بہتیرے ایسے تھے کہ بچوں کے سامنے وہ سُولی دیئے گئے۔ اور جس صدق سے انہوں نے خدا کی راہ میں جانیں دیں اُس کا تصور کرکے رونا آتا ہے ۔ اگر ان کے دلوں پر یہ خدا کا تصرف اور اس کے نبی کی توجہ کا اثر نہ تھا تو پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو اسلام کی طرف کھینچ لیا۔ اور ایک فوق العادت تبدیلی پیدا کر کے ان کو ایسے شخص کے آستانہ پر گرنے کی رغبت دی کہ جو بیکس اور مسکین اور بے زری کی حالت میں مکہ کی گلیوں میں اکیلا اور تنہا پھرتا تھا۔ آخر کوئی روحانی طاقت تھی جو ان کو سفلی مقام سے اٹھا کر اوپر کو لے گئی۔ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اکثر ان کے ان کی کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن اور آنجناب کے خون کے پیاسے تھے ۔ پس میں تو اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ نہیں سمجھتا کہ کیونکر ایک غریب مفلس تنہا بیکس نے ان کے دلوں کو ہریک کینہ سے پاک کرکے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہاں تک کہ وہ فخریہ لباس پھینک کر اور ٹاٹ پہن کر خدمت میں حاضر ہوگئے ۔
بعض ناسمجھ جو اسلام پرجہاد کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ؔ سب لوگ جبراََ تلوار سے مسلمان کئے گئے تھے ۔ افسوس ہزار افسوس کہ وہ اپنی بے انصافی