کے زمانہ کے لوگ کیا مشرقی اور کیا مغربی اور کیا آریہ ورت کے رہنے والے اور کیا عرب کے ریگستان کے باشندے اور کیا جزیروں میں ا پنی سکونت رکھنے والے سب کے سب بگڑ گئے تھے ۔ اور ایک بھی نہیں تھا جس کا خدا کے ساتھ تعلق صاف ہو ۔اور بد عملیوں نے زمین کو ناپاک کردیا تھا تو کیا ایک عقلمند کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ یہ وہی وقت اور وہی زمانہ تھا جس کی نسبت عقل تجویز کرسکتی ہے کہ ایسے تاریک زمانہ میں ضرور کوئی عظیم الشان نبی آنا چاہیئے تھا ۔ رہا یہ سوال کہ اس نبی نے دنیا میں آ کر کیا اصلاح کی ۔ اس سوال کا جواب جیسا کہ ایک مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے بارے میں دے سکتا ہے میں زور سے کہتاہوں کہ ایسا صاف اور مدلل جواب نہ کوئی عیسائی دے سکتا ہے اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی آریہ ۔ پہلا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب کی اصلاح تھی ۔ اورعرب کاملک اُس زمانہ میں ایسی حالت میں تھا کہ بمشکل کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان تھے ۔ کونسی بدی تھی جو ان میں نہ تھی ۔ اور کونسا شرک تھا جو ان ؔ میں رائج نہ تھا چوری کرنا ڈاکہ مارناان کا کام تھا اور ناحق کا خون کرنا ان کے نزدیک ایک ایسا معمولی کام تھا جیسا کہ ایک چیونٹی کو پیروں کے نیچے کچل دیا جائے ۔ یتیم بچوں کو قتل کر کے اُن کا مال کھالیتے تھے ۔ لڑکیوں کو زندہ بگور کرتے تھے ۔ زنا کاری کے ساتھ فخر کرتے اور علانیہ اپنے قصیدوں میں اُن گندی باتوں کا ذکر کرتے تھے ۔ شراب خواری اُس قوم میں اِ س کثرت سے تھی کہ کوئی گھر بھی شراب سے خالی نہ تھا اور قمار بازی میں سب ملکوں سے آگے بڑھے ہوئے تھے ۔ حیوانوں کی عار تھی اور سانپوں اور بھیڑیوں کی ننگ ۔ پھر جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے اور اپنی باطنی توجہ سے ان کے دلوں کو صاف کرنا چاہا تو اُن میں تھوڑے ہی دنوں