فرقوں کے آریہ مذہب والے اس قدر تھوڑے ہیں کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ اور نہ اُن کا دوسرے ہندو فرقوں پرکوئی وسیع اثر ہے۔ ایسا ہی جو نیوگ کی تعلیم وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے یہ بھی وہ امر ہے کہ جو انسانی غیرت اور شرافت اُس کو قبول نہیں کرتی۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے ہم قبول نہیں کرسکتے کہ درحقیقت یہ وید ہی کی تعلیم ہے بلکہ ہماری نیک نیتی بڑے زور سے ہمیں اس بات کی طرف مائل کرتی ہے کہ ایسی تعلیمیں کسی نفسانی غرض سے بعد میں وید کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ اورچونکہ وید پر ہزارہا برس گذر گئے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ مختلف زمانوں میں بعض وید کے بھاشکاروں نے کئی قسم کی کمی بیشی کی ہوگی۔پس ہمارے لئے وید کی سچائی کی یہ ہی ایک دلیل کافی ہے کہ آریہ ورت کے کئی کروڑ آدمی ہزارہا برسوں سے اِس کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور ممکن نہیں کہ یہ عزت کسی ایسے کلام کو دی جائے جو کسی مفتری کا کلام ہے۔
اور پھر جب کہ ہم باوجود ان تمام مشکلات کے خدا سے ڈرکر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور جو کچھ اس کی تعلیم میں غلطیاں ہیں وہ وید کے بھاشکاروں کی غلطیاں سمجھتے ہیں تو پھر قرآن شریف جو اول سے آخر تک توحید سے بھرا ہوا ہے اور کسی جگہ اس میں سورج اور چاند وغیرہ کی پرستش کی تعلیم نہیں کی بلکہ صاف لفظوں میں فرمایا ہے۔ 3 3 ۱ یعنی نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی اور نہ کسی اور مخلوق کی۔ اور اس کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔ علاوہ اس کے قرآن شریف خدا کے قدیم نشانوں اور تازہ نشانوں کی گواہی اپنے ساتھ رکھتا ہے اور خدا کا وجود دکھلانے کے لئے ایک آئینہ ہے۔ کیوں وحشیانہ طور کے اس پر حملے کئے جائیں۔ اور کیوں وہ معاملہ ہم سے نہیں کیاجاتا جو ہم آریہ صاحبوں سے کرتے ہیں اور کیوں دشمنی اور عداوت کا تخم ملک میں بویا جاتا ہے۔ کیاامید کی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا ہوگا۔ کیا یہ نیک معاملہ ہے کہ ایک شخص جو پھول دیتا ہے اس پر پتھر پھینکا جائے اور جو دودھ پیش کرتا ہے اس پر پیشاب گرایا جائے۔