کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی خدا اپنے ؔ مقبول بندوں کی عزت دوسروں کو ہرگز نہیں دیتا اور اگر کوئی کاذب اُن کی کرسی پر بیٹھنا چاہے تو جلد تباہ ہوتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اُس کے رشیوں کو بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں اگرچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وید کی تعلیم پورے طور پر کسی فرقے کو خدا پرست نہیں بنا سکی اور نہ بنا سکتی تھی۔ اور جو لوگ اس ملک میں بُت پرست یا آتش پرست یا آفتاب پرست یا گنگا کی پوجا کرنے والے یا ہزارہا دیوتاؤں کے پوجاری یا جَین مَت یا شَاکَت مَت والے پائے جاتے ہیں۔ وہ تمام لوگ اپنے مذاہب کو وید ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور وید ایک ایسی مجمل کتاب ہے کہ یہ تمام فرقے اُسی میں سے اپنے اپنے مطلب نکالتے ہیں تاہم خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کاافترا نہیں ہے۔ انسان کے افترا میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے اور پھر ایک دائمی سلسلہ قائم کردے اور اگرچہ ہم نے وید میں پتھر کی پرستش کا ذکر تو کہیں نہ پڑھا لیکن بلاشبہ اگنی وایو اور جَل اور چاند اور سورج وغیرہ کی پرستش سے وید بھرا ہوا ہے اور کسی شُرتی میں ان چیزوں کی پرستش کے لئے ممانعت نہیں۔ اب اس کاکون فیصلہ کرے کہ دوسرے تمام قدیم فرقے ہندوؤں کے جھوٹے ہیں اور صرف نیا فرقہ آریوں کا سچااور جو لوگ وید کے حوالہ سے ؔ ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اُن کے ہاتھ میں یہ دلیل پختہ ہے کہ ان چیزوں کی پرستش کا وید میں صریح ذکر ہے اور ممانعت کہیں بھی نہیں اور یہ کہنا کہ یہ سب پرمیشر کے نام ہیں۔ ہنوز یہ ایک دعویٰ ہے کہ جو ابھی صفائی سے طے نہیں ہوااو راگر طے ہو جاتا تو کچھ وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ بڑے بڑے پنڈت بنارس اور دوسرے شہروں کے آریوں کے عقیدوں کو قبول نہ کرتے باوجود تیس پینتیس برس کی کوششوں کے بہت ہی کم ہندوؤں نے آریہ مذہب اختیار کیا ہے اور بمقابلہ سناتن دھرم اور دُوسرے ہندو