میں پڑھا گیا تھا اس رسالہ کے آخر میں لگا دیا ہے۔ ہمیںآریہ صاحبوں پر یہ افسوس نہیں کہ انہوں نے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں اعتراض کئے۔ کیونکہ منکر کو تہذیب اور شرافت کے ساتھ اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔ بلکہ ہمارا تمام افسوس اس بات پر ہے کہ انہوں نے شرافت اور تہذیب سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے مضمون میں نہایت درندگی اور ناپاکی سے کام لیا۔ اور اپنے مضمون کو ایک گالیوں کامجموعہ بنادیا اور کھلے کھلے طورپر ارادہ کیا کہ اُن معزز مسلمانوں کا دل دکھایا جائے جن کو آپ ہی دھوکہ دے کر بلایا اور آپ ہی شرط لگادی تھی کہ مہذبانہ طور پرمضمون سنائے جائیں گے۔ اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ اگر بدنیّتی نہ ہو تو ایک شخص اپنے اعتراض کو نیک اور پاک پیرایہ میں بیان کرسکتا ہے ورنہ ایک مفسد آدمی ایک سیدھی بات کو بھی جو نرمی اور شرافت سے ادا کرسکتا تھا گالی اور ہنسی ٹھٹھے کے پیرایہ میں بیان کرسکتا ہے۔ سو ہم نے ان لوگوں کے جواب میں جس قدر تلخی اور مرارت بعض مقامات میں استعمال کی ہے وہ کسی نفسانی جوش کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم نے اُن کی شورہ پشتی کا تدارک اسی میں دیکھا۔ کہ جواب تُرکی بتُرکی دیاؔ جائے ہمیں اس طریق سے سخت نفرت ہے کہ کوئی تلخ اور ناگوار لفظ استعمال کیا