قابل توجہ ناظرین اے پیارے ناظرین خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں سچائی کا الہام کرے اور میری کوشش کو جو میں نے سراسر ہمدردی اور نیک نیّتی سے کی ہے آپ لوگوں کے لئے مفید بناوے۔ آمین! اس کتاب کا پہلا حصہ جو میری طرف سے آریہ سماج کے جلسہ میں سنایا گیا تھا۔ مَیں نے وہ حصہ اس کتاب کے آخر میں شامل کردیا ہے۔ اور میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اول اُن تمام اعتراضات کا جواب لکھوں جو نہایت بُرے پیرایہ اور بدتہذیبی سے آریہ صاحبوں کی طرف سے ایک عام مجمع میں حاضرین کادل دُکھانے کے لئے پڑھے گئے تھے۔ اور بعد میں کتاب کے آخر میں اپنا وہ مضمون شامل کردوں جو میری طرف سے اس جلسہ میں پڑھا گیا تھا۔ اور اِسی غرض سے میں نے اُس پہلے حصہ کی اشاعت اس وقت تک روک رکھی تھی جب تک کہ میں آریہ صاحبوں کے اعتراضات کاجواب لکھ لوں۔ سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالمنّۃ کہ وہ جواب پورے طور پر لکھا گیا۔ اسؔ لئے میں نے وہ مضمون جو جلسہ